گمشدہ پیغام کا راز
- Get link
- X
- Other Apps
ایک خوبصورت گاؤں کے کنارے بسی ایک پرانی حویلی تھی، جس کے بارے میں عجیب و غریب کہانیاں مشہور تھیں۔ حویلی کے آخری مالک، ایک رازدار سائنسدان تھے جنہوں نے اپنی زندگی کے آخری برسوں میں وہاں پر امن و سکون کی تلاش میں قیام کیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ سائنسدان نے موت سے پہلے ایک پیغام لکھا تھا جسے کبھی نہیں پڑھا گیا۔
علی، جو کہ ایک نوجوان محقق تھا، نے اس پیغام کے بارے میں سنا اور اسے ڈھونڈ نکالنے کی ٹھان لی۔ ایک سرد شام کو، وہ حویلی میں داخل ہوا۔ حویلی کے اندر کا ماحول پراسرار اور سنسان تھا، جیسے کئی سالوں سے کوئی وہاں قدم نہ رکھا ہو۔
علی نے حویلی کے ہر کمرے کی تلاشی لی، لیکن اسے کچھ نہ ملا۔ آخر کار، ایک پرانی لائبریری میں اسے ایک خفیہ الماری ملی جس میں بہت سی پرانی کتابیں اور دستاویزات تھیں۔ اس الماری کے ایک کونے میں علی کو وہ مقدس پیغام ملا، جو ایک مضبوط دھاتی صندوق میں بند تھا۔
صندوق کھولتے ہی، علی کو ایک نقشہ ملا جو ایک خفیہ تجربہ گاہ کی طرف اشارہ کر رہا تھا جو حویلی کے تہہ خانے میں چھپی ہوئی تھی۔ علی نے نقشے کی مدد سے تجربہ گاہ تک راستہ بنایا اور ایک بڑی مشین کا سامنا کیا جو ابھی بھی چالو حالت میں تھی۔
مشین کے پینل پر ایک بٹن تھا جس پر لکھا تھا "فعال کرو"۔ علی نے بغیر کچھ سوچے سمجھے بٹن دبا دیا۔ اچانک، مشین نے شور مچانا شروع کر دیا اور پوری حویلی روشنیوں سے جگمگا اٹھی۔ مشین نے ایک عجیب آلہ خارج کیا، جو ہوا میں تیرتا ہوا نظر آیا اور پھر غائب ہو گیا۔
علی ہکا بکا رہ گیا۔ اس نے محسوس کیا کہ مشین نے وقت کے پار ایک پیغام بھیجا تھا، جسے شاید آنے والے وقتوں میں کوئی دوسرا محقق ڈھونڈ نکالے گا۔ علی نے اس پیغام کو دنیا کے لئے چھوڑ دیا، امید کرتے ہوئے کہ ایک دن کوئی اس کی اہمیت کو سمجھے گا اور اس کے راز کو فاش کرے گا۔
- Get link
- X
- Other Apps

Comments
Post a Comment